انا للہ وانا الیہ راجعون! پاکستان کے نامور مذہبی اسکالر انتقال کر گئے کراچی(نیوز ڈیسک) عالم اسلام کی معروف دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے بزرگ وقدیم استاد مولانا عبدالرزاق لدھیانوی تقریبا دو ماہ علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق مولانا دو ماہ سے جگر اور گردہ کے عارضہ میں مبتلاء اور مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج رہے، تقریبا تیس برس قبل بوجہ انفیکشن آپ کا ایک گردہ نکال دیا گیا تھا، آپ مثالی تقوی کے حامل مستقل مزاج عالم باعمل تھے، صبر و شکر اور تواضع کے پیکر نیک سیرت شخصیت تھے، آپ نے ساری زندگی دینی علوم وفنون کی خدمت میں گزاری، آپ کی رحلت اہل علم کیلئے بڑا سانحہ ہے۔ مولانا عبدالرزاق لدھیانوی مرحوم ہندوستان کے شہر لدھیانہ میں 1941ء میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم وہیں مقامی طور پر حاصل کی، دو سال کی عمر میں آپ کی والدہ کا انتقال ہوا، 1949ء میں مولانا کے والد علی محمد مرحوم نے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان ہجرت کی اور گجرنوالہ میں مستقل قیام پزیر ہوئے، وہاں مولانا لدھیانوی مرحوم نے جامعہ نصرۃ العلوم میں مولانا سرفراز خان صفدر اور مولانا صوفی عبدالحمید سواتی سے علوم وفنون کی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں 1961ء میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں دورہ حدیث شریف پڑھ کر درس نظامی کی تکمیل کی، آپ کے اساتذہ میں محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی، رئیس المحدثین مولانا سلیم اللہ خان سمیت دیگر علم وفضل کی بڑی شخصیات شامل ہیں، درس نظامی سے فراغت کے بعد اپنے استاد علامہ بنوری کے حکم پر جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہی تدریس اور مختلف شعبوں میں نظامت کے فرائض انجام دئیے، اس دوران آپ سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں دنیا بھر کے ہزاروں علماء ومشائخ شامل ہیں، یوں تقریباً اکسٹھ برس جامعہ بنوری ٹاؤن میں خدمات انجام دیتے ہوئے تیراسی (83) برس کی عمر میں رحلت فرما گئے۔ سوگواران میں ایک اہلیہ، دو فرزند مولانا محمد طیب لدھیانوی، قاری محمد طاہر لدھیانوی اور تین بیٹیاں شامل ہیں، دونوں فرزند جامعہ میں تدریسی ذمہ داریوں میں مصروف ہیں، آپ کے بڑے داماد مولانا محمد نعیم بھی جامعہ کے استاد اور شعبہ محاسب کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں، جبکہ آپ کے ایک داماد مولانا الطاف الرحمن مرحوم بھی جامعہ سے منسلک تھے اور تقریبا دو برس قبل انتقال کر گئے تھے، آپ کے انتقال کی خبر سن کر ہزاروں علماء و طلباء جامعہ بنوری ٹاؤن پہنچ گئے، ملک کے دیگر شہروں اور بیرون ملک مقیم آپ کے ہزاروں شاگردوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، نماز جنازہ جامعہ بنوری ٹاؤن میں ادا کی جائے گی۔ وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ کے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا عبیداللہ خالد، مولانا سید سلیمان بنوری، مولانا سعید یوسف، مولانا امداد اللہ یوسف زئی، مولانا حسین احمد، مولانا قاضی عبد الرشید، مولانا صلاح الدین ایوبی سمیت وفاق المدارس کے سرپرست مولانا فضل الرحمن، مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی مختارالدین شاہ، مولانا عبدالستار شاہ، مولانا حافظ فضل الرحیم سمیت دیگر منتظمین ومسؤلین نے مولانا عبد الرزاق لدھیانوی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کا انتقال اہل علم اور دینی طبقوں کیلئے بڑا سانحہ ہے، اس موقع پر قائدین وفاق المدارس نے مولانا لدھیانوی مرحوم کے اہل خانہ سے مسنون تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ و طلباء اور متعلقین جامعہ بنوری ٹاؤن سے بھی اظہار افسوس کیا۔ اور احباب و اہل مدارس سے خصوصی دعاؤں کے اہتمام کی اپیل بھی

اپنا تبصرہ بھیجیں