این این ایس نیوز! شعیب اختر نے حال ہی میں ویرات کوہلی سے متعلق اپنا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ: ” ویرات نے کپتانی چھوڑی نہیں بلکہ اُنہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ ان کے لیے بہترین وقت نہیں ہے لیکن انہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے

کہ وہ کس چیز سے بنے ہیں، کیا وہ اسٹیل کا بنا ہے یا لوہے کا؟ ویرات نے 6 سے 7 سال کپتانی کی لیکن میں کبھی بھی ان کی کپتانی کے حق میں نہیں تھا، میں صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ 100، 120 رنز بناتا رہے اور اپنی بیٹنگ پر توجہ رکھے۔ اگر میں ویرات کی جگہ ہوتا تو شادی نہیں کرتا بلکہ کرکٹ کو وقت دیتا ”شعیب اختر نے مزید کہا کہ: ” کوہلی کو شادی کرنے کے بجائے صرف 10 سے 12 سال تک رنز بنانے اور ریکارڈ بنانے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ شادی کرنا غلط ہے لیکن اگر آپ بھارت کے لیے کھیل رہے ہیں تو آپ کو کرکٹ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ کسی بھی کرکٹر کا کیرئیر 14 سے 15 سال کا ہوتا ہے جس میں آپ 5 سے 6 سال تک اپنے عروج پر رہتے ہیں۔ ویرات کے وہ سال گزر چکے ہیں، اب اُنہیں جدوجہد کرنی ہے۔ لیکن یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں