منفرد اقامہ مرکز نے ضوابط میں مزید ترامیم کا عزم ظاہر کیا ہے- غیرملکیوں کو منفرد اقامے کے حوالے سے دی جانے والی مراعات میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں وہ سہولتیں میسر ہوں جو سعودی شہریوں کو ہیں۔ منفرد اقامہ مرکز نے ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ الوطن اخبار کے مطابق

منفرد اقامہ مرکز نے ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا ہے- سعودی حکومت چاہتی ہے کہ منفرد استعداد اور تجربہ رکھنے والے غیرملکی سعودی عرب کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی ترقی میں حصہ لیں اور ترقی کے تحفظ میں سرگرم کردار ادا کریں اور اس حوالے سے سعودی پالیسی کے نفاذ میں معاون بنیں-

منفرد اقامہ مرکز نے توجہ دلائی ہے کہ عام اقامہ ہولڈرز کے مقابلے میں منفرد اقامہ ہولڈرز کے لیے متعدد سہولتیں پہلے سے موجود ہیں تاہم مملکت کا اہم ہدف یہ ہے کہ ایسے غیرملکیوں کو منفرد اقامہ دیا جائے جو مملکت میں مقیم عام غیرملکیوں سے مختلف ہوں اور وہ وطن عزیز کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوں-

مملکت کی پالیسی اور اس کے اقتصادی و سماجی و مالیاتی حالات کا تقاضا ہے کہ ایسے غیرملکی سعودی عرب کا رخ کریں جو مملکت کی نئی پالیسی کے نفاذ میں معاون ثابت ہوں- سرمایہ کار ارباب صنعت و تجارت، غیرمنقولہ جائدادوں کے مالکان اور منفرد استعداد رکھنے والے غیر ملکی شامل ہیں- منفرد صلاحیت اور تجربے کے مالک افراد سے وطن کو فائدہ ہوگا-

نئی نئی کمپنیاں قائم ہوں گی- اس سے مالیاتی و اقتصادی شعبوں کو فروغ ملے گا- منفرد اقامہ ضوابط میں متعدد ترامیم تجویز کی گئی ہیں- ان میں سے ایک یہ ہے کہ منفرد اقامہ ہولڈر سے مقابل مالی (فیملی فیس) ضوابط پر عمل درآمد نہیں کرایا جائے گا وہ اس سے مستثنی ہوں گے-

سعودی عرب کے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے غیرملکیوں کے مرافقین سے جو مقابل مالی لیا جاتا ہے منفرد اقامہ ہولڈرز سے نہیں لیا جائے گا- دوسری سہولت یہ دی جارہی ہے کہ تعلیم و صحت کی سہولیات سے متعلق جو سہولتیں سعودی شہریوں کو حاصل ہیں وہ منفرد اقامہ ہولڈرز کو بھی ملیں گی-

اپنا تبصرہ بھیجیں