نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بیس سال پرانی بات ہے سیدخاندان کا ایک لڑکا میرے کمرے میں زارو قطار رو رہا تھا ۔اسے اس کی اہلیہ کے سگے بھائی نے سر عام زدوکوب کیا ۔جب وہ نیم بیہوش ہوگیا تواس سے طلاق نامے پر انگوٹھے لگوا لیے

کہ اس کی بیوی کے نام تین مربع نام اراضی جو تھی ،اور بھائی نہیں چاہتے تھے کہ یہ زمین کسی غیر کے نام منتقل ہو ۔اس لڑکے کا گِریہ تھا میں ہر چیز چھوڑتا ہوں مجھے میرا بیٹا لے دیں ۔ میں نے مداخلت کی ۔ لڑکی والے بہت بااثر اور لڑکا انتہائی بے اثر فیملی سے تھا لہٰذا کچھ بھی نہ ہوسکا ۔ اور اب سنٹرل پرزن ملتان میں 302 کی ایک ملزمہ کے منہ سے نکلے ہوئے جملے ۔۔۔۔۔۔’

’میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ق ی د خانہ اتنی اچھی جگہ ہے ، سونے کو چارپائی ، رہنے کو چھت ، تین وقت مفت کی روٹی ، وہ سپرنٹنڈنٹ سے کہنے لگی باجی ہر علاقے میں ایسی جگہیں بنادیں تو لاکھوں عورتیں یہاں ہنسی خوشی رہنا قبول کرلیں گی

۔اور ایسے ماحول میں رہنے کیلئے اگر انہیں کوئی جرم بھی کرنا پڑا تو کریں گی کیونکہ ہم جیسی بیواؤں اور شادی سے محروم رہ جانے والی خواتین کی بیرونی زندگی اتنی اذیتناک بنا دی جاتی ہے کہ انسانوں کی اس دنیا میں ہمارے لئے ق ی د خانہ ہی جنت ہے ۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں