کمپیوٹر الگورتھم بنایا ہے جو کسی بھی تصویر کو دیکھ کر تصویر میں موجود شخص کے ہمجنس پرست ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔یہ الگوتھم مردوں میں 81 فیصد اور عورتوں میں 74 فیصد درست نتائج دیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں انسانوں کے تصویر دیکھ کر ہم جنسپرست ہونے کے اندازے مردوں میں صرف 61 فیصد اور عورتوں میں 54 فیصد تھے۔یہ سافٹ وئیر کسی شخص کی تصویر ایک سے زیادہ بار دیکھ کر مزید بہتر نتائج دیتا ہے۔اس سافٹ وئیر پرا یسے تمام افراد اور ادارے تنقید کر رہے ہیں جو ہمجنس پرستی کو کسی بھی شخص کا ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب قسمت کبھی یوں بھی مہربان ہوتی ہے کہ انسان کو یقین ہی نہیں آتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اور ایسا ہی بھارت سے تعلق رکھنے والے نوجوان پنٹو پال تھومانا اور اس کے دوست فرانسس سباسچین کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔ دونوں دوست اپنی پسند کا لاٹری نمبر نہ ملنے پرایک اور نمبر خرید بیٹھے۔ لیکن جب قرعہ اندازی ہوئی تو دونوں کو پتہ چلا کہ وہ10لاکھ ڈالر (تقریباََ ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانی روپے)کے مالک بن چکے ہیں۔ عرب اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ پنٹو پال اور اس کے دوست فرانسس سباسچین نے لاٹری کا ٹکٹ خریدنے کا فیصلہ کیا لیکن کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ان کی پسند کا نمبر نہیں نکلا۔ دوسری ٹرائی پر 2465 نمبر نکلا جو انہیں پسند تو نہ آیا۔البتہ بادل ناخواستہ خرید لیا۔ بعد ازاں وہ اپنے فیصلے کو غلط قرار دیتے رہے لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہی ’غلطی‘ ان کی زندگی بدلنے والی تھی۔ گزشتہ روز جب پنٹو کو لاٹری جیتنے کی خوشخبری سنانے کے لئے کال کی گئی تو وہ سمجھے کہ ان سے مذاق کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں