کراچی(مانیٹرنگ، این این ) پاکستان میں پہلی خواجہ سرا نے ڈاکٹر بن کر تاریخ کر دی۔خواجہ سرا سارہ گل نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ایم بی بی ایس کا فائنل پروفیشنل امتحان کراچی یونیورسٹی سے پاس کیا جبکہ وہ مختلف تنظیموں کی عہدیدار بھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے ڈاکٹر بننے کے لیے بہت محنت کی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے اندرجذبہ ہے توکوئی بھی آپ کو کچھ کرنے سے نہیں روک سکتا، زندگی میں مشکلات تو آتی رہتی ہیں،میں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں اور ڈاکٹربننے کے بعد اب میرے والدین نے مجھے قبول کیا ہے۔انہوں نے خواجہ سرا کمیونٹی کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمت نہ ہاریں اگر میں ڈاکٹر بن سکتی ہوں تو کوئی بھی محنت کے ذریعے آگے آ سکتا ہے،انہوں نے والدین کے نام پیغام میں کہا کہ معاشرے کے دباؤ میں آ کر اپنے بچوں کو گھروں سے نہ نکالیں۔دوسری جانب سندھ حکومت نے خواجہ سراؤں کو نوکریاں دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے، سندھ کابینہ نے سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ اورپنشن کے قوانین میں تبدیلی،سی پی ایل سی کے لیے قواعد جبکہ رینجرکے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اختیارات میں 90 دن کی توسیع کی منظوری دے دی۔ صوبائی کابینہ نے صوبے کے 9 مختلف میگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے لیے 58ارب روپے فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلی ہاؤس میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے،اجلاس میں تمام صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، اے سی ایس ہوم، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ صوبائی کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی یی پی)کے منصوبوں کے فنانس کو بہتر اور موثر طریقے سے

چلانے کے لیے9 مختلف منصوبوں کے بقایاجات ادا کرنے کے لیے 58 بلین روپے کی منظوری دی۔ 9 منصوبوں کے لیے منظور کیے گئے فنڈز میں ملیر ایکسپریس وے کے لیے 13.1 ارب روپے، نبی سر۔وجیہر واٹر ورکس کے لیے 19.2 ارب روپے، دریائے سندھ پرگھوٹکی۔ کندھ کوٹ پل کے لیے 6.73ارب روپے، ماڑی پور ایکسپریس

وے کیلئے 4.3ارب روپے، کورنگی لنک روڈ کے لیے 5 ارب روپے، کراچی حب واٹر کینال کے لیے 7.3 ارب روپے، کراچی ٹھٹھہ کیریج وے کیلئے 862ملین روپے، چلڈرن ہسپتال نارتھ کراچی کے لیے 440 ملین روپے اور ریجنل بلڈ سینٹرز کے لیے 830 ملین روپے شامل ہیں۔ پی پی پی یونٹ ان فنڈز کو پراجیکٹس کی ڈیٹ سروسنگ

کے لیے استعمال کرے گا۔وزیراعلی سندھ نے پی پی پی یونٹ کو ہدایت کی کہ وہ جاری منصوبوں پر کام کی رفتارکو تیز کرے تاکہ انہیں بروقت مکمل جاسکے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیب نے کشمور اور نوشہروفیروز کے اضلاع میں 67,846.94 ٹن گندم کی کمی کو ظاہر کیا تھا لیکن جب اس کمی کی تصدیق کی گئی تو

اپنا تبصرہ بھیجیں