میرا نام ارم ہے میں گیارہ سال کی تھی جب یہ واقعہ پیش آیا دسمبر 1990 کا سخت سردی کا موسم تھا ہمارے محلے میں ایک پیر صاحب آۓ ہوۓ تھے جو لوگوں کے بقول بہت پہنچے ہوۓ تھے ان کی دعا میں بڑا اثر تھا کیا مرد کیا عورتیں سب کی خواہش تھی کہ کسی نا کسی طرح پیر صاحب کے ہاتھ چومنے کا ایک موقع مل جاۓ

پیر صاحب روزانہ رات کو محلے کے کسی ایک گھر میں قیام کرتے اور وہ گھر والے خود کو خوش قسمت سمجھتے تھے وہاں پر ان کی خوب خدمت سیوا کی جاتی تھی پچر ایک رات ہمارے گھر والوں کو پیر صاحب کی خدمت ے کا موقع مل گیا میری والدہ خوشی سے پھولے نہیں تا رہی تھی سارا دن پان میں کھانے بناتی رہیں

شام ہوتے ہی وہ ہمارے گھر پہنچ گئے میری والدہ اور والد نے مزیدار کھانوں سے ان کی تواضع کی اور کچھ نقدی بھی پیش کی جسے قبول کر کے پیر صاحب نے ہاتھ اٹھا کر لمبی دعا مانگی اور میری بھولی بھالی ماں خوشی سے نہال ہو گئی رات کو ابو ڈیوٹی پر چلے گئے اور پیر صاحب کا بستر بیٹھک میں لگا دیا گیا جب سونے کا وقت آیا

تو پیر صاحب نے میری امی سے کہا کہ سونے سے مجھے ٹانگیں دبوانے کی عادت ہے ورنہ مجھے نیند نہیں آتی ، امی نے حجٹ سے مجھے تحکم جاری کر دیا کہ ارم بیٹی بابا جی کی ٹانگیں و ہا دو اور خود کمرے سے باہر نکل گئیں اب میرا کوئی بھائی تو تھا نہیں اس لیے یہ انتہائی اہم فرئضہ مجھے سونپ دیا گیا تھا

میری امی تو پیر صاحب کی اتنی قدر دان تھیں کہ ان کا بس چلتا تو خود یہ کام کرنے لگ جاتیں مجھے ایک تو پہلے ہی پیر صاحب اچھے نہیں لگتے تھے اوپر سے ان کی ٹانگیں دبانے والا کام میرے گلے پڑ گیا چارو ناچار میں ان کی چار پائی پر بیٹھ گئی اور ٹانگیں دہانے لگ پڑی تھوڑی دیر بعد پیر صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے

تمہارے ہاتھ ٹھنڈے ہیں میں گرم کر دیتا ہوں پھر میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر دبانے لگ پڑے مجھے بہت الجھن محسوس ہونے گی لیکن ایک تو وہ بڑے ہر دلعزیز تھے دوسرا میں نا سمجھ پڑی تھی اسی لیے خاموشی سے ان کے بستر پر بیٹھی رہی کہ وہ ناراض نا ہو جائیں پھر ان کی دست درازیاں بڑھتی چلی گئیں میں خاموشی سے بیٹھی رہی

کوئی ایک گھنٹہ وہ میرے جسم کے ساتھ چھیٹر چاڑ کرتے رہے جب ان کا دل بھر گیا تو مجھے کہنے لگے کہ اب جا کر سو جاؤ باقی کل رات دبانا ؛ یہ سن کر میں ۔ پریشان ہو گئی کہ یہ سب کچھ کل بھی کرنا پڑے گا میں خاموشی سے جا کر بستر پر لیٹ گئی میرے دل میں اس پیر صاحب کے لیے شدید نفرت بھر گئی تھی

تم تھک گئی ہو گی تھوڑی دیر یہاں بستر پر لیٹ جاؤ میں تمہاری ٹانگیں دباتا ہوں میں نے انکار میں سر ہلا دیا لیکن وہ کہاں ماننے والا تھا مجھے میچ کر اپنے ساتھ بستر پر ڈال لیا اور میرے جسم کو چھونے لگا میں سمجھ گئی کہ کل تو نچ گئی تھی آج بچنا مشکل ہے مجھے اپنی مال پر غصہ آ رہا تھا جو مجھے اس بھیٹریے کے حوالے کر کے

خود مزے سے دوسرے کمرے میں سو رہی تھی میں نے بھاگنے کا سوچا لیکن اس شیطان کی گرفت کے آگے میں خود کو ایسی چڑیا سمجھ رہی تھی جس کو کسی طاقتور باز نے دبوچ رکھا ہو کمرے میں مدہم سی لائیٹ چپل | رہی تھی اچانک وہ بھی بجھ گئی شاید بجلی بند ہو گئی تھی ۔ میں بے بس ہو کر اپنی بربادی کا تماشہ دیکھنے گی 🙁

اب وہ جعلی پیر بستر سے اٹھ کر بیٹھا ہوا تھا اور میں قسمت کی ماری خوف سے آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی اچانک ایک زور دار آواز آئی اور ساتھ ہی مجھ پر سے پیر صاحب کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اس کے بعد کمرہ روشنی سے بھر گیا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو میری ماں ہاتھ میں بڑا سا ڈنڈا پکڑے غضب ناک بنی کھڑی تھی

پھر دیکھتے ہی دیکھتے میری امی نے پیر صاحب پر ڈنڈوں کی بارش کر دی وہ شیطان اپنے جوتے نچوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ، اس نے دروازہ کھولا اور رات کے اندھیرے میں فرار ہو گیا ؛ اس کے بعد وہ جعلی پیر بھی ہمارے ، علاقے میں نظر نہیں آیا ، میری امی نے مجھے بتایا کہ اس کو شک تو پیر صاحب پر پہلی رات ہی ہو گیا تھا

لیکن آج رات میں نے چپ کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا میری امی نے خود ہی گھر کی لائیٹ بند کی تھی تاکہ پیر صاحب کو ڈنڈا پڑنے سے پہلے سنجلنے کا موقع نا مل سکے پھر مجھے گلے سے لگا کر کہنے لگیں کہ میری بیٹی ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اولاد مصیبت میں ہو اور ماں کو خبر نہ ہو ؟ میں ماں کی گود میں بیٹھی

اپنا تبصرہ بھیجیں