کیا دن میں جانے سے ڈرتا ہے مگر پاکستان میں ہی ایک ایسا گھر بھی ہے جہاں صرف قبریں ہی قبریں ہیں اور یہاں گھر والے رہتے بھی ہیں۔

بات دراصل یہ ہے کہ یہ گھر لاہور کے مستی گیٹ سے قریب واقع ہے اور اس کا کل رقبہ 3 کنال ہے۔ تقریباََ 400 سال پہلے سے اس گھر میں جو کوئی بھی وفات پا جاتا ہے اسے اسی گھر میں دفنا دیا جاتا ہے۔یہ زمین آج سے کئی سال پہلے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بابا فضل حسین شاہ کو تحفے میں دی تھی کیونکہ وہ انکے مرید ہو گئے تھے۔ پھر بابا فضل حسین شاہ یہاں ہی رہے اور دین اسلام کی تبلیغ کا کام کرتے رہے۔اصل میں جو لوگ اب اس گھر میں رہتے ہیں وہ بابا فضل حسین شاہ کی ہی آٹھویں نسل ہے اور انکی تقریباََ 7 نسلیں اس قبرستان نما گھر میں دفن ہیں۔وہ اس لیے کہ بابا فضل حسین شاہ صاحب نے کہا تھا کہ مجھے یہاں ہی دفنانا تو پھر آگے سے جس بھی فیملی ممبر کا انتقال ہوتا اس کی بھی یہی خواہش ہوتی کہ وہ یہاں ہی اپنے بزرگوں کے پاس سپرد خاک ہو تو اس طرح یہ قبرستان نما گھر وجود میں آیا۔گھر کے آدھے سے زیادہ رقبہ پر قبرستان موجود ہیں اور باقی رقبے پر بابا فضل شاہ کی آٹھویں نسل رہتی ہے۔مزید یہ کہ اس آٹھویں نسل میں سے سید عاطف حسین کہتے ہیں کہ ہمیں اس قبرستان سے بالکل ڈر نہیں لگتا کیونکہ یہ سب ہمارے بڑے ہی تو ہیں۔ہاں کئی مرتبہ محلے والوں نے اور ہم نے بھی جن وغیرہ دیکھے ہیں مگر وہ ہمیں کچھ بھی نہیں کہتے۔ یہی نہیں ہم عام گھروں کی طرح اس گھر میں رہتے ہیں۔

سید عاطف حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب یہ گھر ہمارے بڑے بزرگ بابا فضل حسین شاہ کو دیا گیا تو اس سے پہلے یہاں جناب علامہ اقبال صاحب کے استاد پروفیسر حافظ عمر دراز رہتے تھے اور علامہ اقبال ان کے پاس فارسی اور شعر و شاعری کا درس حاصل کرنے آتے تھے۔اس وقت پرو فیسر حافظ عمر دراز جی سی کالج میں بطور لیکچرار اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔واضح رہے کہ یہ گھر پاکستانی تاریخ کا انوکھا گھر ہے جس کے باعث یہاں ہمیشہ کئی ہزار لوگوں کا ہجوم رہتا ہے جو اسے دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں