اس کی بیوی خوبصورت اور نیک سیرت تھی ایک سقا ( پانی لانے والا)اس کے گھر تیس سال تک پانی لاتا رہا بہت بااعتماد شخص تھا ایک دن اسی سقا نے پانی ڈالنے کے بعد اس جیولر کی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر شہو ت سے دبایا ۔

اور چلا گیا عورت بہت غمزدہ ہوئی کہ اتنی مدت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اسی دوران جیولر کھانا کھانے کے لئے گھر آیا تو اس نے بیوی کو روتے ہوئے دیکھا پوچھنے پر صورت حال کی خبر ہوئی تو جیولر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے بیوی نے پوچھا کیا ہوا ؟جیولر نے بتایا کہ آج ایک عورت زیور خریدنے آئی جب میں اسے زیور دینے لگا تو اس کا خوبصورت ہاتھ مجھے پسند آیا میں نے اس اجنبیہ کے ہاتھ کو شہو ت کے ساتھ شہو ت کے ساتھ دبایا یہ میرے اوپر قرض ہو گیا تھا لہٰذا سقا نے تمہارے ہاتھ کو دبا کر چکا دیا میں تمہارے سامنے سچی توبہ کر تا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔البتہ مجھے ضرور بتانا کہ سقا تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے دوسرے دن سقا پانی ڈالنے کے لئے آیا تو اس نے جیولر کی بیوی سے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کل مجھے شیطا ن نے ورغلا کر براکام کروا دیا میں نے سچی توبہ کرلی ہے آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگاعجیب بات ہے کہ جیولر نے غیر عورت کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لی تو غیر مردوں نے اس کی عورت کو ہاتھ لگا نے سے توبہ کر لی

اپنا تبصرہ بھیجیں