پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار رشید ناز 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

رشید ناز کے بیٹے حسن نعمان کا کہنا ہے کہ والد کافی عرصے سے علیل تھے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک اسپتال میں زیرعلاج تھے۔

 حسن نعمان کا کہنا ہے کہ رشید ناز کی نماز جنازہ فقیرآباد عیدگاہ میں سہ پہر 3 بجے ادا کی جائے گی۔

رشید ناز کے کیریئر پر ایک نظر

رشید ناز 9 ستمبر 1948 کو خیبرپختون خوا میں پیدا ہوئے، انہوں نے بےشمار فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

1971 میں انہوں نے پشتو ڈرامے میں بطور اداکار اپنے ٹیلی ویژن کیریئر کا آغاز کیا۔

 رشید ناز نے کئی پشتو، ہندکو اور اردو زبان کے ڈراموں میں کام کیا۔ ان کا پہلا اردو ڈرامہ ’ایک تھا گاؤں‘ تھا جو 1973 میں نشر کیا گیا۔ ان کا پہلا مقبول ڈرامہ ’ناموس‘ تھا۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے نجی ٹیلی ویژن کے ڈرامے ’دشت‘ میں بھی کام کیا۔

1988 میں، انہوں نے اپنی پہلی پشتو فلم ’زما جنگ ‘میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

 ان کی پہلی اردو فلم سید نور کی ’ڈکیت‘ تھی، انہوں نے شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ میں بھی کام کیا۔

رشید ناز نے شعیب منصور کے ایک معروف ویڈیو گانے ’عشق محبت اپنا پن‘ میں ایمان علی کے ساتھ بھی کام کیا۔

رشید ناز کی مشہور فلموں میں کراچی سے لاہور، ورنہ، خدا کے لیے اور دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے خدا زمین سے گیا نہیں ہے ، انکار ، انوکھی، اپنے ہوئے پرائے، غلام گردش، دوسرا آسمان، ناموس، پتھر ، آن سمیت دیگر ڈراموں میں اپنی جاندار اداکاری سے شائقین کے دل جیتے۔

آج صبح رشید ناز کی بہو اور اداکارہ مدیحہ نقوی نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے یہ خبر دی کہ اداکار رشید ناز اب ہم میں نہیں رہے۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ’ہمارے پیارے بابا رشید ناز آج صبح اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے سورہ فاتحہ ضرور پڑھیں۔‘

مداحوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا پر رشید ناز کے انتقال پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں