شمار طریقے رائج ہیں، ہندو اور دیگر کچھ مذاہب کے لوگ اپنے مرنے والوں کو جلاتے ہیں، مسلمان اور دیگر کچھ مذاہب کے ماننے والے اپنے مر جانے والے عزیز و اقارب کی میتوں کو دفناتے ہیں۔ اسی طرح کئی دیگر طریقے بھی رائج ہیں۔

تاہم اب ایک اور ایسا ہولناک طریقہ بھی متعارف کروا دیا گیا ہے کہ سن کر ہی آدمی دہل جائے۔ دی سن کے مطابق اس نئے متعارف کروائے گئے طریقے میں مرنے والے کو کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر اس کا جسم مکمل گھلا دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی غرض سے متعارف کرائے گئے اس ’ماحول دوست‘ طریقے کو ایکوامیشن کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ایک مشین تیار کی گئی ہے جس میں ایک شیشے کا بڑے سائز کا سلنڈر بھی شامل ہے جو ایک پریشر ککر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس سلنڈر میں پانی اور پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ کا آمیزہ موجود ہوتا ہے، جس میں میت کو ڈال دیا جاتا ہے اور مشین اس آمیزے کو 150ڈگری سیٹی گریڈ تک گرم کر دیتی ہے۔ پریشر ککر جیسے دباؤ میں اتنا درجہ حرارت تیزی کے ساتھ گوشت کو محلول میں گھول کر حل کر دیتا ہے اور صرف ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے۔ان ہڈیوں کو بعد ازاں اوون میں ڈالا جاتا ہے اور ان کی سفید راکھ بنا کر ایک برتن میں ڈال کر لواحقین کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ ایجاد کرنے والی فرم ’بائیو ریسپانس سالوشنز‘ کا کہنا ہے کہ میت کا گوشت گھلانے کے بعد سلنڈر میں بچ جانے والا آمیزہ فرٹیلائزر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس طریقے میں میت کو جلانے کی نسبت کہیں کم توانائی خرچ ہوتی ہے اور آلودگی نہ ہونے کے برابر پھیلتی ہے۔

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں