اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک ہومیو ڈاکٹر کے پاس جانا ہوا، جہاں مجھ سے پہلے ایک خاتون بیٹھی تھیں، ڈاکٹر نے ان سے صرف یہ پوچھا، جی بی بی فرمائیں؟؟ خاتون نے بولنا اسٹارٹ کیا۔۔فرمانا کیا ہے، دو دن سے ہلکا سا بخار محسوس ہو رہا ہے، بائیں بازو میں درد رہتا ہے۔

گردن کے پٹھے کھنچے رہتے ہیں، ہاتھ اور پیر جلتے رہتے ہیں۔۔ گلے میں کانوں کے نیچے گلٹیاں سی بنی ہیں، میں نے تو کل ہی آنا تھا آپ کے پاس، مگر چھوٹی بیٹی کو بیٹا ہوا ہے، وہ کل سے گھر آئی ہوئی ہے، مہمان آ جا رہے ہیں۔۔ کل رات اس کا شوہر بھی آ گیا، گھر میں تو ساگ پکا تھا مگر اس کے لئے دیسی مرغ کی کڑاہی بنوائی، میں نے بھی دو،چار بوٹیاں چکھ لیں۔۔ اس وقت سے سینے میں جلن ہو رہی ہے، ڈکار بھی کھٹے کھٹے آ رہے ہیں، اور صبح سے کچھ کھانے کو بھی دل نہیں کر رہا تھا، صرف ایک آلو والا پراٹھا ہی دہی کیساتھ کھایا ہے۔۔ لڑکی کو پہلا بچہ ہوا ہے، کتنا خرچہ ہو جاتا ہے آپ کو تو پتہ ہی ہو گا، لیکن کوئی مسئلہ نہیں، اللہ نے کرم کیا تھا، کمیٹی نکل آئی ہے، اسی دن کے لئے ڈالی تھی۔۔ ڈاکٹر صاحب وہ جو آپ نے گولیاں دی تھیں پچھلی بار، وہ ختم ہو گئی ہیں۔۔ شربت پڑا ہے، ابھی بیٹھ کر اٹھتی ہوں تو اچانک آنکھوں کے آگے اندھیرا آ جاتا ہے، چکر آنے لگتے ہیں، پھر میں بیٹھی ہی رہتی ہوں۔۔پھر بیٹھے بیٹھے سوچتی ہوں۔

کہ اسی طرح بیٹھی رہی تو وزن بڑھنا نہ شروع ہو جائے۔ وہ ہماری ہمسائی ہے ناں رشیدہ، بے چاری اتنی موٹی ہو گئی ہے کہ اب تو اس سے ہلا بھی نہیں جاتا۔۔میں نے اسے کہا بھی تھا کہ آپ کے پاس آجائے، دوائی لینے۔۔کہتی ہے کہ اسلم کو بھیجوں گی، لے آئے گا خود ہی،اس کے گھر والے کا نام اسلم ہے۔۔ ڈاکٹر صاحب میری دائیں ٹانگ میں بھی کبھی کبھی درد رہتا ہے۔ اس کی بھی دوائی دے دینا۔۔ ڈاکٹر گم سم اسے دیکھتا رہا پھر وہ اٹھ کر دوائیوں والے کاؤنٹر کے عقب میں گیا۔ مجھے ایسا لگا کہ کاؤنٹر کے پیچھے جا کر ڈاکٹر صاحب نے سب سے پہلے جلدی سے دو ڈسپرین کھائی ہوں گی۔۔جمعہ کا دن تھا۔ جامع مسجد کے خطیب کی سحر بیانی اپنی جوبن پر تھی۔ موضوع جنت اور حورِ عین تھا۔ لوگ پورے انہماک اور توجہ سے خطبہ سن رہے تھے۔ خطیب صاحب حورِ عین کا وہ نقشہ کھینچ رہے تھے کہ اک عجب سماں بندھ چکا تھا۔ لوگ دل ہی دل میں اعمالِ صالحہ کا تہیہ کر رہے تھے۔ خطیب نے خطیبانہ ردھم توڑتے ہوئے ایک ذرا سانس لیا۔ اس کی آنکھوں میں چمک عود کر آئی۔ کہنے لگا۔۔ اللہ اللہ کیا منظر ہو گا۔

جب فرشتے بندہ مومن کو یاقوت و مرجان اطلس و کمخواب سے آراستہ و پیراستہ محل میں لے کر داخل ہوں گے۔ پھر اچانک اس کی نظر حورِ عین پہ پڑے گی جو تمام حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہو گی۔ بندہ مومن اس کی طرف آگے بڑھے گا لیکن فرشتے روک لیں گے۔ اسے محل کے ایک اور حصے میں لے کر جائیں گے جہاں اس سے بھی خوبصورت حوریں اس کے استقبال کو تیار بیٹھی ہوں گی۔ یہاں بھی اسے فرشتے روک لیں گے اور کہیں گے تیری حور خاص بالا خانے میں تیری منتظر ہے۔ وہ ہزار شوق سے بالا خانے میں داخل ہو گا۔ کیا دیکھتا ہے سامنے اس کی دنیاوی بیوی کھڑی ہوگی۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ سامعین میں سے ایک آدمی اٹھا اور خطیب پر چیخا۔۔۔ اچھے بھلے خطبے کا ستیاناس کر دیا۔ خدا کا خوف کر۔ دو ڈھائی گھنٹے بیٹھے کتنے شوق سے تجھے سن رہے تھے۔ کچھ تو ہمارا خیال کرتا۔ ہم لوگ بیگم سے بھاگ کر مسجد آتے ہیں اور تو نے جنت میں بھی اسے ہمارے گلے ڈال دیا۔ اگلے جمعہ اچھی طرح مطالعہ کرکے آئیو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں