اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دنیا کی کوئی شے بھی مرد کے دل و دماغ کو پر سکون نہیں کر سکتی سوائے اس کی من پسند عورت کے۔ عورت میں ایک کمزوری ہو تی ہے جس وجہ سے وہ بہت نقصان اٹھاتی ہے وہ کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے من پسند مرد کو اپنی ہر کمزوری بتا دیتی ہے۔

منہ پر نقاب اوڑھ لینا ہرگز شرافت کی گارنٹی نہیں اس معاشرے نے بہت سی نقاب پوش عورتوں کو رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر اپنی بولی لگواتے دیکھا ہے ۔ حیا اگر عورت کی آنکھ میں نہ ہو تو اسے لاکھ نقاب بھی بے حیا ئی سے نہیں روک سکتے ۔ ز لزلہ صرف عورت کے چست لباس پہننے سے نہیں آتا ہو گا۔ ز لزلہ دودھ میں پانی پلانے پر بھی آتا ہو گا۔ ز لزلہ مرچ میں اینٹ کا برادہ ملانے پر بھی آتا ہوگا۔ ز لزلہ کمپنی سے کمیشن کے لیے غیر موزوں اور مہنگی ادویات لکھنے پر بھی آتا ہو گا ز لزلہ ممبر پر بیٹھ کر نفت پھیلانے پر بھی آتا ہوگا۔ ایک محل میں رہنے والا اپنی چھوٹی سوچ کی وجہ سے کم ظرف ہو سکتا ہے اسی طرح ایک کچے گھر میں رہنے والا عام آدمی اپنی اچھی سوچ کی وجہ سے اعلیٰ ظرف ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر کا میاب ہو نا ہے تو اچھا سوچو۔ بڑا سوچو۔ اپنا ظرف بڑا رکھو۔ سارے کھیل روحوں کے ہو تے ہیں مٹی کے جسم میں کشش تب ہی جا گتی ہے جب روح کا ٹکراؤ ایک دل کو لگ جانے والی روح سے ہو جا تا ہے ورنہ یہاں تو حسین و جمیل لوگ بھی دل کو نہیں بھاتے اور کبھی سادہ سا انسان بھی جان سے پیارا ہو جا تا ہے۔ مت بھاگو دوسروں کے پیچھے۔وہ عورت کبھی بھی بوڑھی نہیں ہو سکتی جو ہر حال میں خوش رہنا جانتی ہو۔ ہر حال میں خوش مطلب ظاہری خوشی نہیں بلکہ اندر سے خوش۔

اپنا تبصرہ بھیجیں