فیصل آباد: شمائلہ* نے کبھی کمپیوٹر انجینئر بننے کا خواب دیکھا تھا، لیکن اس کے بجائے سولہ برس کی یہ روشن آنکھوں والی پاکستانی لڑکی کو دھوکے سے متحدہ عرب امارات میں جسم فروشی کے دھندے میں دھکیل دیا گیا، اور اس کے لیے جنسی زیادتی، تشدد اور ظلم و ستم پر مبنی چار برس طویل ایک ڈراؤنا خواب شروع ہوگیا۔

پاکستان طویل عرصے سے اس خلیجی ریاست کے لیے سستے مزدوروں کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، خاص طور پر اس کے تعمیراتی شعبے کے لیے جس میں زور و شور کے ساتھ کام جاری ہے۔

لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ سینکڑوں نوجوان پاکستانی خواتین کو بھی ہر سال دبئی کے نائٹ کلبوں اور جسم فروشی کے اڈوں میں جنسی تجارت کی فراہمی کے لیے اسمگل کردیا جاتا ہے۔

شمائلہ اور ان کی بہن رابعہ * بھی ان میں سے ایک تھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں