پرانے وقتوں کی بات ہے ایک چوٹے سے ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔ بادشاہ بہت ہی عیش پرست انسان تھا ۔ اس بادشاہ کی ایک خو بصورت اور حسین و جمیل بیٹی تھی ۔ ملکہ بادشاہ سلامت کو عیش پرستی سے بہت روکتی تھی لیکن بادشاہ سلامت کسی کی ایک نہیں سنتا تھا ۔ اس عیش پرست باد شاہ نے اپنے ملک میں ایک قانون بنایا ہوا تھا کہ جو بھی

خوبصورت لڑ کی زنا کرتے ہوۓ پکڑی جاتی تو زنا کرنے والے لڑکے کو سنگسار کر دیا جاتا جبکہ اس لڑ کی کے ساتھ باد شاہ سلامت ساری رات زنا کرنے کے بعد صبح اس کو پورے گاؤں میں ننگا گھماتا ۔ اس بادشاہ سلامت سے تمام رعایا بہت خوف کھاتی کہ غلطی انسان سے ہوتی ہے اور گناہ بھی انسان سے ہو تا ہے لیکن اس کی سزا بھی ہمیں اسلام کے مطابق دینی چاہیے نہ کہ اس لڑ کی

کو ننگا کر کے پورے گاؤں میں گھما یا جانا چاہیے اور اس کی عزت کو تار تار کیا جاۓ ۔ بادشاہ سلامت ہر وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ کوئی لڑ کی زنا کرتے ہوۓ پکڑی جاۓ اور میں اس سے زنا کر کے اس کو پورے گاؤں میں نگا گھماؤں ۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بادشاہ کا ایک وزیر بہت تنگ آ گیا تھااور وہ ہر وقت بادشاہ سلامت کو نیک مشورے دیتالیکن بادشاہ سلامت اس کی ایک بھی

نہ سنتا تھا ۔ ایک دفعہ وہ عیش پرست بادشاہ ایک گاؤں سے گزرا تو اسے ایک بزرگ کی بیٹی بہت پسند آگئی اور اس پر پہلی ہی نظر میں فداہو گیا۔اس عیش پرست بادشاہ نے سوچا کہ اس لڑ کی کے ساتھ کیسے زنا کیا جاۓ ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ سلامت نے اپنے محل کے ایک سپاہی کو ایک منصوبے کے تحت بھیجا اور کہا گاؤں کی اس خو بصورت لڑکی کو اٹھا کر ایک غار

میں لے جاؤ اور تم اس کے ساتھ زناکر ناور ادھر سے میرے سپاہی تمہیں رنگے ہاتھوں پکڑ کر لیں گے میں دکھاوے کے لئے تمہیں تھوڑی سزادے کر اپنے ملک سے انعام واکرام دے کر رخصت کر دوں گا اور اس لڑ کی سے اپنی زنا کرنے کی خواہش پوری کر لوں گا ۔ وہ سپاہی محل سے نکل پڑااور اس کی بیٹی کورات کو اغوا کر کے ایک غار میں لے گیا اوراس کے ساتھ زنا کرنے لگا ۔ وہ زنا کر رہاتھا

کہ بادشاہ کے سپاہی پہنچ کئے اور انہوں نے پکڑ کر اس لڑکی کو بادشاہ سلامت کے سامنے پیش کیا ۔ بادشاہ سلامت معمول کے مطابق ساری رات اس لڑ کی سے زنا کرتارہااور پھر اس کو ننگا کر کے پورے گاؤں میں گھمایا ۔ وہ بزرگ اور اس کی بیٹی نے خود کشی کر لی یہ سب کچھ دیکھ کر وزیر کو بہت غصہ آیا اور اس نے اس بادشاہ سلامت کو سبق سکھانے کا ٹھان لیا ۔ چند دن سوچنے کے بعد وزیر

بادشاہ سلامت کی بیٹی کو اغوا کر کے اس غار میں لے گیا اور اس کے ساتھ زنا کر ناشر وع کر دیا ۔ جب بادشاہ کے سپاہیوں نے بادشاہ کو خبر دی کہ بادشاہ سلامت شہزادی آپ کے وزیر کے ساتھ زنا کرتے ہوۓ پکڑی گئی ۔ جیسے ہی بادشاہ نے سنا کہ میری بیٹی وزیر کے ساتھ زنا کرتے ہوۓ پکڑی گئی تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیوں کہ اب وہ اپنا قانون اپنی بیٹی پر لا گو نہ کرتا

تورعایا اس سے بد ظن ہو جاتی اور اس کی سلطنت خطرے میں پڑ جاتی ۔ یہ سوچ کر بادشاہ سلامت بہت پریشان ہوا کہ اب میں کیا کروں گا ۔انہی سوچوں میں گم تھا کہ اس کے سپاہی وزیر کو پکڑ کر اور شہزادی کو لے کر محل میں حاضر ہوۓ ۔ جیسے ہی وزیر محل میں داخل ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ تم مجھے سنگسار کر دو اور اپنی بیٹی کے ساتھ ساری رات زنا کر و اور اس کے

بعد اس کو صبح گاؤں میں نگا گھمادو کیونکہ تمہارا قانون سب کے لیے برابر ہے۔ا گر تم نے ایسانہ کیا تو تمہیں اپنی سلطنت کو کھوناپڑے گا ۔ یہ سب سن کر بادشاہ بہت پریشان ہوا کیونکہ ایک طرف اس کی بیٹی تھی جبکہ دوسری طرف اس کی سلطنت تھی ۔ جب یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی تو تمام رعایا محل میں جمع ہو گی ۔ بادشاہ سوچ سوچ رہا تھا کہ اپنی بیٹی کو بچاؤں

یاپنی سلطنت کو ۔ لیکن اس بد بخت بادشاہ نے اپنی سلطنت کو تر یج دی اور اپنی بیٹی کے ساتھ زنا کرنے کے لیے تیار ہو گیا ۔ معمول کے مطابق شہزادی کو تیار کیا گیا اور جیسے ہی بد بخت باد شاہ کمرے کے اند ر داخل ہوا تو بادشاہ کی بیٹی اس کے سامنے ننگی موجود تھی ۔ بادشاہ سلامت کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور اس کی سانسیں رکنے لگیں۔اب وہ جیسے ہی اپنی بیٹی کے قریب

جارہا تھا تو اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔اب بادشاہ کو معلوم ہو گیا کہ میراہی کانون مجھ پر بھاری پڑ گیا ہے اگر میں مجبور والدین کی بیٹیوں پر یہ قانون لا گو نہ کرتا تو شاید آج یہ سب کچھ میرے ساتھ نہ ہوتا۔اب اس کے پیر کانپ رہے تھے اور وہ سوچ رہا تھا کہ اگر میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ زنانہ کیا تو میری عمر بھر کی محنت سے حاصل کی گئی سلطنت چند ہی لمحوں میں

نامی میرے ہاتھ سے چلی جاۓ گی۔اب جیسے ہی وہ شہزادی کے بہت قریب گیا تو اس وقت زمین پر گرا اور وہیں مر کر ڈھیر ہو گیا ۔ تھوڑی دیر بعد وزیر اس بادشاہ کو گھسیٹتا ہوا باہر تمام رعایا کے سامنے لے آیا اور ان سے کہا کہ اگر میں نے بادشاہ کی بیٹی کے ساتھ زنا کر کے غلط کیا ہے تو میں سنگسار ہونے کے لیے تیار

ہوں ۔ یہ سب سننے کے بعد رعایا اس سے بڑی متاثر ہوئی کہ جو بادشاہ اتنے سالوں سے لڑکیوں کی عزت کے ساتھ کھیلتا رہا تو اس کا انجام اس وزیر نے دکھا دیا۔اس کے بعد پھر بادشاہ کی بیٹی کی شادی اس وزیر سے کر دی گئی اور پھر اس کے بعد وزیر کو نیا باد شاہ مقرر کر دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں