دنیا کے تمام کھیلوں میں سب سے برا کھیل محبت کا ہے ۔ اور سب سے زیادہ جھوٹ اور دھوکہ بھی اس کھیل میں ہو تا ہے وجب زندگی کی تلخیاں حد سے بڑھ جائیں تور شتوں میں مٹھاس ختم ہو جاتی ہے ۔

میں نے زندگی میں اس سے بڑھ کر تکلیف دہ لمحہ نہیں دیکھاجب کوئی آپ سے یہ بول دے کہ ‘ ‘ آپ جا سکتے ہو مجھے اب آپ کی ۔ ضرورت نہیں “ ۔ایک بار بھر وسہ ٹوٹ جانے پر ا گر آپ پھر سے بھروسہ کر لیتے ہو ۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے آپ آنکھوں کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی اندھے ہو ۔

انسان کو اپنی بے بسی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی کو دیکھنے کو ترس جاتا ہےاور پھر ہم جیسے لوگ تو زند گی کا توازان بر قرار رکھنے کی کوشش میں اپناذ ہنی توازن بھی کھو بیٹھتے ہیںکائنات کی کوئی شئے ہمیں ہمارے ہونے کے احساس نہیں دلاسکتی سواۓ محبت کے ۔

اس نے مجھے سکھایا کہ ‘ ‘ محبت ‘ ‘ ایک بھی نہ ختم ہونے والی اذیت کا بہت لمباراستہ ہے جس کی منزل موت کے سوا کوئی نہیںدل توڑ کر چھوڑ جانے والے کے دل میں اپنی یاد اور تڑپ پیدا کر نا چاہتے ہو تو صبر کرتے جاؤ اور معاملہ رایر چھوڑ دواس کے لئے ہمیشہ بھلا سوچووہ وقت دور نہیں جب اسے یہ احساس ہو گا اور وہ ایک دن آپ کو یاد کر کے روئے گا اور شر مند گی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا ۔ڈپریشن کی انتہا جسے سکون دینے لگ جاۓ اس پر کوئی بھی لہجہ اثر نہیں کر تاکیلا پن اتنا سکون دینے لگ جاتا ہے کہ پاس بیٹھے لو گوں کی موجودگی بھی تمہارے لیے بے معنی ہو جاتی ہے ۔

وہ بھی کتنا عجیب شخص ہے اگر دو لمحے بھی کتنا ؟ چہرے پر مسکراہٹ نے بھی آتا ہے تو اگلے روز ساری رات رلا کر حساب پورا کرلیتا ہے ۔۔ اور سب سے زیادہ جھوٹ اور دھوکہ بھی اس کھیل میں ہو تا ہے وجب زندگی کی تلخیاں حد سے بڑھ جائیں تور شتوں میں مٹھاس ختم ہو جاتی ہے ۔

میں نے زندگی میں اس سے بڑھ کر تکلیف دہ لمحہ نہیں دیکھاجب کوئی آپ سے یہ بول دے کہ ‘ ‘ آپ جا سکتے ہو مجھے اب آپ کی ۔ ضرورت نہیں “ ۔ایک بار بھر وسہ ٹوٹ جانے پر ا گر آپ پھر سے بھروسہ کر لیتے ہو ۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے آپ آنکھوں کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی اندھے ہو ۔

انسان کو اپنی بے بسی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی کو دیکھنے کو ترس جاتا ہےاور پھر ہم جیسے لوگ تو زند گی کا توازان بر قرار رکھنے کی کوشش میں اپناذ ہنی توازن بھی کھو بیٹھتے ہیںکائنات کی کوئی شئے ہمیں ہمارے ہونے کے احساس نہیں دلاسکتی سواۓ محبت کے ۔

اس نے مجھے سکھایا کہ ‘ ‘ محبت ‘ ‘ ایک بھی نہ ختم ہونے والی اذیت کا بہت لمباراستہ ہے جس کی منزل موت کے سوا کوئی نہیںدل توڑ کر چھوڑ جانے والے کے دل میں اپنی یاد اور تڑپ پیدا کر نا چاہتے ہو تو صبر کرتے جاؤ اور معاملہ رایر چھوڑ دواس کے لئے ہمیشہ بھلا سوچووہ وقت دور نہیں جب اسے یہ احساس ہو گا اور وہ ایک دن آپ کو یاد کر کے روئے گا اور شر مند گی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا ۔ڈپریشن کی انتہا جسے سکون دینے لگ جاۓ اس پر کوئی بھی لہجہ اثر نہیں کر تاکیلا پن اتنا سکون دینے لگ جاتا ہے کہ پاس بیٹھے لو گوں کی موجودگی بھی تمہارے لیے بے معنی ہو جاتی ہے ۔

وہ بھی کتنا عجیب شخص ہے اگر دو لمحے بھی کتنا ؟ چہرے پر مسکراہٹ نے بھی آتا ہے تو اگلے روز ساری رات رلا کر حساب پورا کرلیتا ہے ۔۔ اور سب سے زیادہ جھوٹ اور دھوکہ بھی اس کھیل میں ہو تا ہے وجب زندگی کی تلخیاں حد سے بڑھ جائیں تور شتوں میں مٹھاس ختم ہو جاتی ہے ۔

میں نے زندگی میں اس سے بڑھ کر تکلیف دہ لمحہ نہیں دیکھاجب کوئی آپ سے یہ بول دے کہ ‘ ‘ آپ جا سکتے ہو مجھے اب آپ کی ۔ ضرورت نہیں “ ۔ایک بار بھر وسہ ٹوٹ جانے پر ا گر آپ پھر سے بھروسہ کر لیتے ہو ۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے آپ آنکھوں کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی اندھے ہو ۔

انسان کو اپنی بے بسی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی کو دیکھنے کو ترس جاتا ہےاور پھر ہم جیسے لوگ تو زند گی کا توازان بر قرار رکھنے کی کوشش میں اپناذ ہنی توازن بھی کھو بیٹھتے ہیںکائنات کی کوئی شئے ہمیں ہمارے ہونے کے احساس نہیں دلاسکتی سواۓ محبت کے ۔

اس نے مجھے سکھایا کہ ‘ ‘ محبت ‘ ‘ ایک بھی نہ ختم ہونے والی اذیت کا بہت لمباراستہ ہے جس کی منزل موت کے سوا کوئی نہیںدل توڑ کر چھوڑ جانے والے کے دل میں اپنی یاد اور تڑپ پیدا کر نا چاہتے ہو تو صبر کرتے جاؤ اور معاملہ رایر چھوڑ دواس کے لئے ہمیشہ بھلا سوچووہ وقت دور نہیں جب اسے یہ احساس ہو گا اور وہ ایک دن آپ کو یاد کر کے روئے گا اور شر مند گی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا ۔ڈپریشن کی انتہا جسے سکون دینے لگ جاۓ اس پر کوئی بھی لہجہ اثر نہیں کر تاکیلا پن اتنا سکون دینے لگ جاتا ہے کہ پاس بیٹھے لو گوں کی موجودگی بھی تمہارے لیے بے معنی ہو جاتی ہے ۔

وہ بھی کتنا عجیب شخص ہے اگر دو لمحے بھی کتنا ؟ چہرے پر مسکراہٹ نے بھی آتا ہے تو اگلے روز ساری رات رلا کر حساب پورا کرلیتا ہے ۔۔ اور سب سے زیادہ جھوٹ اور دھوکہ بھی اس کھیل میں ہو تا ہے وجب زندگی کی تلخیاں حد سے بڑھ جائیں تور شتوں میں مٹھاس ختم ہو جاتی ہے ۔

میں نے زندگی میں اس سے بڑھ کر تکلیف دہ لمحہ نہیں دیکھاجب کوئی آپ سے یہ بول دے کہ ‘ ‘ آپ جا سکتے ہو مجھے اب آپ کی ۔ ضرورت نہیں “ ۔ایک بار بھر وسہ ٹوٹ جانے پر ا گر آپ پھر سے بھروسہ کر لیتے ہو ۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے آپ آنکھوں کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی اندھے ہو ۔

انسان کو اپنی بے بسی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی کو دیکھنے کو ترس جاتا ہےاور پھر ہم جیسے لوگ تو زند گی کا توازان بر قرار رکھنے کی کوشش میں اپناذ ہنی توازن بھی کھو بیٹھتے ہیںکائنات کی کوئی شئے ہمیں ہمارے ہونے کے احساس نہیں دلاسکتی سواۓ محبت کے ۔

اس نے مجھے سکھایا کہ ‘ ‘ محبت ‘ ‘ ایک بھی نہ ختم ہونے والی اذیت کا بہت لمباراستہ ہے جس کی منزل موت کے سوا کوئی نہیںدل توڑ کر چھوڑ جانے والے کے دل میں اپنی یاد اور تڑپ پیدا کر نا چاہتے ہو تو صبر کرتے جاؤ اور معاملہ رایر چھوڑ دواس کے لئے ہمیشہ بھلا سوچووہ وقت دور نہیں جب اسے یہ احساس ہو گا اور وہ ایک دن آپ کو یاد کر کے روئے گا اور شر مند گی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا ۔ڈپریشن کی انتہا جسے سکون دینے لگ جاۓ اس پر کوئی بھی لہجہ اثر نہیں کر تاکیلا پن اتنا سکون دینے لگ جاتا ہے کہ پاس بیٹھے لو گوں کی موجودگی بھی تمہارے لیے بے معنی ہو جاتی ہے ۔

وہ بھی کتنا عجیب شخص ہے اگر دو لمحے بھی کتنا ؟ چہرے پر مسکراہٹ نے بھی آتا ہے تو اگلے روز ساری رات رلا کر حساب پورا کرلیتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں