اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں گزشتہ تین برس سے زیر حراست شہزادی بسمہ بنت سعود کو علالت کے باعث رہا کر دیا گیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 57 سالہ بسمہ بنت سعود کو بیٹی کے ہمراہ مارچ 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔بسمہ بنت سعود دوران حراست مزید بیمار ہو گئیں۔

تاہم انھوں نے احتجاجاً علاج کرانے سے انکار کر دیا۔ دن بہ دن ان کی طبیعت بگڑتی گئی جس پر 2020 میں سعودی فرمانروا اور ولی عہد سے بیمار شہزادی کو رہا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیم القسط نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا ہے کہ شہزادی بسمہ بنت سعود کو تین سال بعد طبیعت کی ناسازی کے باعث بیٹی کے ہمراہ رہا کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شہزادی بسمہ بنت سعود کو اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ بیٹی کے ہمراہ علاج کے غرض سے سوئٹزرلینڈ جا رہی تھیں۔ دوسری جانب معروف عالمِ دین علامہ ابتسام الہی ظہیر کی طبیعت انتہائی خراب ہوگئی۔ان کے اہلِ خانہ نے ان کے چاہنے والوں اور پاکستان کے عوام سے ان کیلئے دعائے صحت کی اپیل کی ہے۔انتہائی ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ علامہ ابتسام الہی ظہیر گزشتہ کئی ہفتوں سے علیل ہیں ۔ وہ لاہور میں لارنس روڈ کی مسجد میں جمعہ پڑھاتے ہیں تاہم دو ہفتوں سے علالت کے باعث خطبہ جمعہ بھی نہیں دے سکے۔ پاکستان کے ٹاپ ڈاکٹرز سے ان کا علاج کرایا گیا ہے تاہم وہ صحت یاب نہیں ہوسکے اور اب ان کی حالت سخت تشویشناک ہے ۔علامہ ابتسام الہی ظہیر کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پرجادو کا شدید حملہ ہوا ہے جس کے باعث ان کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔یہ حملہ اتنا شدید ہے کہ متعدد علما اور عامل تاحال جادو کا توڑ نہیں کرپائے جس کی وجہ سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں