میں مارکیٹ لائی گئی اس نے سیاہ اور سفید دھاریوں والا تیراکی کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کا جسم ایک جوان عورت کا تھا جسے ”Adult figured doll” کہتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی لڑکی یا لڑکا بڑے ہو کر کسی ساحل سمندر یا

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سوئمنگ پول میں خواتین کو ایسے لباس میں دیکھے تو اسے کوئی حیرت نہ ہوگی کیونکہ ایسی عریانی سے تو وہ بچپن میں کھیلتے تھے۔ عورتوں کے لیے جسمانی آئیڈیل یا رول ماڈل تخلیق کرنے کے لیے سٹینڈرڈ باربی 11.5 انچ کی ہوتی ہے جسکو 1/6 کی سکیل سے دیکھا جائے تو ایک جوان لڑکی کو خوبصورت ہونے کے لیے 5 فٹ نو انچ قد آور ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس کی دیگر پیمائشوں کے مطابق کمر 18انچ پتلی ہونی چاہیے۔ چونکہ ایسا جسم لڑکیوں نے آئیڈیل سمجھنا شروع کر دیا تھا اسی لئے اس کے فوائد اور نقصانات پر طب کی دنیا میں تحقیق شروع ہوگئی۔ فن لینڈ کی ہیلنسکی یونیورسٹی کے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر باربی کا آئیڈیل تناسب حاصل کیا جائے تو عورتوں کو جسم سے 22 فیصد چربی کم کرنا ہوگی جو انکے نسوانی وظائف (Female Function) کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔ یوں 1997ء میں اسکی کمر کے سائز کو بڑا کر دیا گیا۔ ”باربی” نے خواتین میں مخصوص جسمانی ساخت کے حصول کا ایک جنون پیدا کردیا اور 1963ء میں اس ساخت کی ترغیب کیلئے باربی نے اپنا لٹریچر شائع کرنا شروع کیا جس کی پہلی کتاب ”How to lose weight” یعنی ”وزن کیسے کم کریں”، تھی۔اسی کتاب کا ایک اور ایڈیشن ”Slumber Party”، 1965ء میں آیا جس میں باربی جیسی جسمانی ساخت حاصل کرنے کی تراکیب درج تھیں۔ باربی نے مارچ 2018ء میں اپنی رول ماڈل مہم کا آغاز کیا۔ اس نے 17 کامیاب خواتین

اپنا تبصرہ بھیجیں