اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دو لوگوں سے نہیں جیا جا سکتا ایک وہ عورت جو حیادار نہ ہو اور ایک وہ مرد جو وفادار نہ ہو جب بے وفائی ثابت ہو جائے تو پھر انتظار خود بخود ختم ہو جا تا ہے۔ عورت کو ایک لمحے کے لیے بھی محبت کا احساس لگے تو وہ ایک لمحے میں قید ہو جاتی ہے عورت ملکیت نہیں محبت کے حصار میں جینا چاہتی ہے۔

لاحاصل کی تمنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بچہ پکڑنے کی کو شش میں گھر سے بہت دور نکل جاتا ہے پھر نہ تتلی ہاتھ آتی ہے اور نہ واپسی کا راستہ عورت کو اگر وقت محبت اور عزت دی جائے تو وہ جان دے سکتی ہے مگر کبھی بے وفایی یا دھوکا نہیں دے سکتی سچی محبت ہی تو مشکل وقت میں ساتھ دیتی ہے ہاتھ وہی چھوڑتے ہیں جو نبھانے کے قابل نہیں ہوتے یاد رکھنا جو عورت بات بات پر ہنستی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اندر سے بہت اکیلی اور چاہت کی طلبگار ہے اس کا دل بہت خوبصورت ہو تا ہے ڈھیر ساری مکمل خواہشوں کے ہوتے ہوئے خوشی کے کچھ پل چرا لینے کا نام زند گی ہے پہلے لوگ آپ کا متبادل ڈھونڈیں گے پھر آپ کے متبادل کا متبادل اور قصور وار بھی آپ ہی ٹھہریں گے۔ اعتبار روح کی طرح ہو تا ہے ایک دفعہ چلا جائے تو واپس نہیں آتا لوگوں کو حق بات بھی وہ پسند ہے جو ان کے حق میں ہو۔ وقت اور سمجھ ایک ساتھ خوش قسمت لوگوں کو ہی ملتی ہے کیونکہ اکثر وقت پر سمجھ نہیں ہوتی اور سمجھانے تک وقت نہیں رہتا عورت کو متاثر کرنا بہت آسان ہے وہ غیر مرد سے ملنے والی محبت عزت اور احساس سے ہی اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہے ہمبستری کے وقت اگر عورت خاموشی سے نیچے لیٹی رہے تو سمجھ جاؤ کہ وہ اس عمل سے ناخوش ہے اور لطف اندوز بھی ہو رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں