(ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے انسانی جسم کا ایک نیا حصہ دریافت کر لیا ہے، جس نے اکیسویں صدی میں لوگوں کو حیران کر دیا، یہ کارنامہ سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انجام دیا ہے۔اس وقت جب کہ ناسا نے آج ہی اربوں میل دور کائناتی اسرار سے

 

 

 

پردہ اٹھانے کے لیے 10 بلین ڈالرز لاگت کی ایک نئیخلائی دوربین لانچ کر دی ہے، ہم ابھی تک انسانی جسم کا مکمل پتا لگانے سے بہت دور ہیں، اور اس کا ایک بڑا ثبوت سائنس دانوں کی جانب سے یہ نئی دریافت ہے۔طبی جریدے اینلز آف اناٹومی کے مطابق طبی سائنس دانوں نے انسانی جلد کے نیچے ایک نیا حصہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نچلے جبڑے میں موجود مسلز کی ایک تہہ ہے جو چبانے میں

 

 

 

بنیادی کردار ادا کرتی ہے، نیسلٹڈ ڈیپ نامی یہ مسل (پٹھا) جبڑوں کے مسلز کا حصہ ہے جو گالوں اور نچلے جبڑے کے عقب میں ہوتا ہے۔محققین کے مطابق 2017 تک یہ مانا جاتا تھا کہ انسانی جسم میں 78 اعضا ہیں مگر پھر میسینٹری (آنتوں کو معدے کے بیرونی حصے سے جوڑنے والی جھلی) کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ تعداد 79 ہوگئی جب کہ 2018 اور 2019 میں بھی 2 نئے حصے دریافت کرنے کے دعوے سامنے آئے۔نئے دریافت شدہ مسل کو کوئی چیز چبانے کے دوران گالوں کے پیچھے انگلیاں رکھ کر محسوس بھی کیا جا سکتا ہے، اس سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ

 

 

 

2 تہوں پر مبنی مسل ہے، مگر کچھ ماہرین نے ایک تیسری اور زیادہ پراسرار تہہ کا خیال ظاہر کیا تھا۔سوئٹزرلینڈ کے یونیورسٹی سینٹر فار ڈینٹل میڈیسین باسل کے محققین نے بتایا کہ متضاد خیالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے جبڑے کے اس مسل کی ساخت کی منظم جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا، اور اس طرح جبڑے کے مسل کی اس تیسری تہہ کو آخر کار دریافت کر لیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ masseter مسلز (عضلات) کی گہرائی میں

 

 

 

کہ masseter مسلز (عضلات) کی گہرائی میں موجود ایک تیسری تہہ واضح طور پر افعال کے باعث دیگر 2 تہوں سے الگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جسم کا یہ نیا مسل نچلے جبڑے کو مستحکم رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق بھی کی جائے گی۔ماہرین نے اس نئے حصے کا نام Musculus masseter pars coronidea کا نام تجویز کیا ہے

 

 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں