لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خواتین ہمیشہ اپنے شوہروں کے بارے میں منفی ہی سوچ رکھتی ہیں۔ ایک خاوند نے اپنی بیوی کے موبائل پر میسیج کیا۔۔ تم نیگیٹیو ہو۔۔ بیوی نے میسیج پڑھا تو غصے سے لال ہوگئی،فوری جواب میں

 

 

 

لکھا۔۔ اور تم ضدی ہو، بد دماغ ہو، گھٹیا ہو، اپنے اوراپنے یاروں دوستوں کے سوا کسی کی فکر ہی نہیں کرتے، اپنی ذات اپنے دوستوں اور اپنے فائدے کے سوا کسی بات پر دھیان ہی نہیں دیتے، ساری زندگی کوئی ایک بات ایسی نہیں کی جس پر تم قائم بھی رہے ہو، میں تمہاری کنجوسی اور ڈھٹائی پر صبر کر کے خاموش زندگی گزار رہی ہوں،بے قدرے، بے ادب فضول آدمی، موٹے، بھدے، کوجھے آدمی، نکمے انسان، تم نے تو میری زندگی عذاب بناکررکھی ہوئی ہے۔۔خاوندنے جواب دیا۔۔ لیکن میں تو تمہیں بتا رہا تھا کہ تمہارا کارونا کا ٹسٹ رزلٹ نیگیٹیو آیا ہے۔۔باباجی سے

 

 

 

 

کسی نے پوچھا، اچھی اور بری بیوی میں کیا فرق ہے؟ باباجی نے حیرت سے پوچھنے والے کے چہرے کی جانب دیکھا اور کہا۔۔کیا مطلب،کیا بیویاں اچھی بھی ہوتی ہیں؟؟میاں بیوی طلاق کے لئے عدالت آتے ہیں ،جج کہتا ہے۔۔ تم لوگوں کے تین بچے ہیں، انہیں کیسے تقسیم کرو گے؟؟ میاں بیوی کافی بحث اور سوچ بچار کے بعد اس پر اتفاق کرلیتے ہیں کہ وہ اگلے سال آئیں گے ایک اور بچے کے ساتھ۔۔۔ ذرا رکو،ٹھہرو۔۔ابھی لطیفہ ختم نہیں ہوا۔۔۔ نو مہینے بعد۔ ان کے ہاں جڑواں بچے ہوئے۔یوں معاملہ پھر ملتوی ہوگیا۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے۔۔ بہو، ناریل اور ’’داماد‘‘ اندر سے

 

 

 

 

کیسے نکلیں گے؟ کوئی دانا سے دانا شخص بھی نہیں بتاسکتا۔۔۔ویسے یہ بھی بہت ہی عجیب اتفاق ہے کہ سارے داماد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں کیا۔۔۔ معروف کرکٹر عبدالقادر کے داماد عمراکمل ہیں، ان کی حرکتیں سب جانتے ہیں۔۔سابق صدر غلام اسحاق خان کے دامادوں عرفان مروت اور انورسیف اللہ سے کون واقف نہیں۔۔ اور بھٹو کے عالمی شہرت یافتہ داماد سے تو آپ اچھی طرح واقفیت رکھتے ہی ہیں۔۔ دامادوں کے لئے مشورہ ہے کہ وہ سسرال آناجانا کم رکھیں، ایک داماد عید پر سسرال گیا۔ساس نے مرغی پکا کر سامنے رکھ دی۔۔داماد صاحب نے ازراہ تکلف کہا کہ اس

 

 

 

کی کیا ضرورت تھی۔۔ساس نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا، ہم نے دس مرغیاں پالی ہوئی ہیں۔ہم یوں سجھیں گے کہ ایک مرغی کو کُتا کھا گیا۔باباجی فرماتے ہیں۔۔ وہ دنیا کو اپنی جنت بناتا چلا گیا جو بیگم کی ہاں میں ہاں ملاتا چلاگیا۔۔آخر میں آپ کی تفریح طبع کے لئے ایک اور لطیفہ اس میں کسی قسم کی سیاسی و غیر سیاسی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔ ’’ایک دن ملا نصیر الدین ایک گدھے پر الٹا سوار ہوکر کہیں جا رہے تھے کسی

 

 

 

 

نے پوچھا’’آپ گدھے پر الٹے کیوں سوار ہیں؟‘‘۔ملا نے جواب دیا’’پیچھے سے آنے والے خطرے دیکھنے کے لئے‘‘۔اُس شخص نے پوچھا’’تو پھر سامنے سے آنے والے خطرات کا کیسے پتہ چلے گا؟‘‘۔ملا نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ’’سامنے سے آنے والے خطرات میرا گدھا دیکھ رہا ہے‘‘۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔باباجی کہتے ہیں۔۔پاکستان میں بھی اچھے دن آگئے ہیں بس ان دنوں ’’دھند‘‘ کی وجہ سے نظر نہیں آرہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں