میرے گھر والے بنگلوں میں رہیں بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومیں، دنیا دیکھیں اس لیے میں غیر ملک آیا تھا۔یہ رلا دینے والی داستان ایک ایسے نوجوان کی ہے جو اپنے غریب گھر والوں کے خواب پورے کرنے کیلئے پردیس آ گیا مگر آج جب اسے گھر والوں کی یاد ستائی تو گھر فون کیا اور

 

 

 

 

کہا کہ اب میں گھر آناچاہتا ہوں۔تاکہ آپ کے درمیان رہ کر آرام کر سکوں جس کے جواب میں گھر والے کہتے ہیں کہ تو کس حق سے واپس آنا چاہتا ہے تو نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے آج تک؟ اور اگر تو باہر گیا تو اپنی عیاشیوں کیلئے گیا، اپنے شوق کیلئے گیا ہے اور یاد رکھنا اب واپس نہیں آنا۔ بس یہ سننے کے بعد اس بھائی کا دل خون کے آنسو رونے لگا اور پردیس میں اکیلا ہونے کے باعث اس نے اپنے احساسات اور آنسوؤں کی ویڈیو بنا

 

 

 

 

کر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔ جس میں یہ خوبرو جوان کہتا ہے کہ میں نے کیا کیا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کبھی اچھا کپڑا نہیں پہنا، باہر ملک آ کر بھی اچھا کھانا نہیں کھایا، کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی، شراب نہیں پی اور ہر طرح کی موسم کی سختی برداشت کی صرف اس لیے کہ اپنے گھر زیادہ سے زیادہ پیسے بھیج سکوں۔ یہی نہیں گھر والوں کے عیش و آرام کیلئے میں کئی ملکوں میں گھوما تب جا کر

 

 

 

اس ملک میں مجھے اچھا روزگار ملا۔ اس خوبرو جوان نے روتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے کچھ نہیں کیا اور سب اپنی عیاشیوں میں اڑا دیا تو پھر چھوٹی بہن، چھوٹے بھائی کی شادی کیسے دھوم دھام سے ہوئی اور کہاں سے پیسہ آیا جس سےچھوٹا بھائی ڈاکٹر بن گیا۔ اس جوان کی باتیں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ اپنی زندگی سے تنگ آ چکا ہے اور اب کہیں کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے۔ اس کے علاوہ پر دیسی جوان کے بقول گھر والے ہم تو غریب لوگ تھے اور والد کے بعد میں گھر کا بڑا بھائی تھا تو زمہ داری کو محسوس کیا۔ گھر کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے

 

 

 

جب مجھے تنخواہ ملتی ہے تو تمام گھر والوں کے اکاؤنٹ میں علیحدہ علیحدہ ڈالتا ہوں پھر کچھ رقم اپنے لیے رکھ لیتا ہوں اور گھر والوں کی خدمت کی وجہ سے کبھی اپنے اپنے بیوی ، بچوں کا بھی خیال نہیں کیا۔ مزید یہ کہ اب ہمیں اس خوبرو جوان کے آنسو ہمیں آج یہ سبق دیتے ہیں کہ بالکل باہر جائیں محنت کریں لیکن سب سے پہلے اپنے ہاتھ مضبوط کریں۔ کیونکہ اس دنیا میں یہی دیکھا گیا ہے کہ جو بھائی باہر ہو وہ

 

 

 

صرف مزدور کی طرح کام کرتے ہیں اور باقی بھائی بہن کچھ بن جاتے ہیں تو اسی بھائی کی زرا برابر بھی عزت نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ کئی مرتبہ تو یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ماں باپ بھی منہ پھیر جاتے ہیں اور اس وقت صرف و صرف انسان کے پاس آنسو رہ جاتے ہیں۔ اپنی پوری زندگی پردیس میں گزارنے کے بعد جب وہ پاکستان واپس آتا ہے تو اس کے حالات بدلنے تو کیا ہوتے ہیں بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں۔

 

 

 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں