افغان متعدد قبائل کا مجموعہ ہے جن کا جد امجد علی ایک ہے۔ مثلا ابدالی ،بنگش ،غوری ،یوسفزئی ،ہنی ،منگل ،کاکڑ،وزیری مسعود ی ، تنولی ، خٹک ،نیازی وغیرہ ۔

پھر ان قبائل کی ہزارہا شاخیں ہیں پھر ان شاخوں کی ذیلی متعدد شاہیں ، جو اشخاص یا علاقے سے منسوب کی گئی ہیں ۔ مقام کے بارے میں تاریخ مختلف آراء پیش کرتے ہیں ، بعض انہیں بنی اسرائیل سمجھتے ہیں عرب کے ساتھ مراسلات کا سلسلہ جاری رہا ۔ جب عرب مشرف بااسلام ہوئے تو انہوں نے حالد نامی شخص کو دعوت اسلام کے لیے ان افغانوں کے پاس بھیجا ۔

اور بعد میں افغانوں نے اپنے سرداروں کی ایک جماعت کو عربستان بھیجا ان میں ایک شخص کا نام قیس تھا جس کا نسب نامہ سنتالیس واسطوں سے اولاد بنی اسرائیل سے اور 55 واسطوں سے حضرت ابراہیم سے ملتا تھا ۔ خالد نے اس جماعت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر کیا حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کا نام ملک عبدالرشید رکھا

افغانوں کی یہ جماعت فتح مکہ میں بھی شریک رہی تھی کہ قیس کی وفات سنتالیس میں ہوئی عمر 87 تھی ۔ عرب کے علاقے حیبر کی طرح یہاں بھی ایک مقام خیبر موجود ہے ۔ کیونکہ افغانوں کی نشونما سخت کوشی ،جفاکشی اور مہم پسندی پر ہوئی اس لیے یہ لوگ جنگ و جدل کرنے والے لوگ رہے ہیں وہ کسی غیر کی حکومت کو آسانی سے قبول نہیں کرتے ۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں