اردو ہماری قومی زبان ہے اس کی ترویجج کا دعویٰ تو عوام اور حکمران کرتے ہیں لیکن اس کا حق ادا کرنے کے معاملے میں اکثر زیادتی کر جاتے ہیں۔ کسی بھی زبان کا سب سے پہلا حق اس کو درست لب و لہجے میں اس کی ادائیگی اور درست املے کے ساتھ اس کو تحریر کرنا ہوتا ہے جس کی ذمہ داری سرکار پر خصوصی طور پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ وہی اس سرکاری زبان کی حفاظت کے ضامن ہیں-

اردو زبان کے ساتھ کیے جانے والے مذاق
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر کچھ سرکار کی سرپرستی میں چلنے والے اداروں کی جانب سے ایسے بیینر لگائے گئے جن کو دیکھ کر اردو سے محبت کرنے والے افراد بے ساختہ احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے-

نصیحت بے نتیجہ ہو گئی
میونسپل کارپوریشن جو کہ ایک سرکاری ادارہ ہے اس کی جانب سے عوام کے لیے کچھ پیغامات کے بینر تیار کیے گئے جن کو دیکھ کر بہتر طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کو لکھنے والے اردو کی کتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں- اس بینر کے مطابق حوس اور لالچ کا نتیجہ تباہی ہے مگر یاد رہے کہ ہوس کو اس ح سے نہیں لکھا جاتا ہے-

سرکاری ویب سائٹ کا گوگل پر انحصار
پاکستان کے اندر جو سرکاری ویب سائٹ موجود ہیں وہ اردو کے لیے گوگل کی مدد لیتی ہیں جس سے الفاظ کا مفہوم کافی حد تک بدل جاتا ہے- لیکن انہوں نے اس کی زيادہ فکر نہیں کی ہے یہاں تک کہ اگر پرائم منسٹر ہاؤس کے سرکاری ویب سائٹ کو دیکھا جائے تو وہاں پر AUTONOMOUS BODIES کا جب اردو ترجمہ دیکھیں تو تو آپ کو خودمختار لاشیں لکھا نظر آئے گا-

اسی طرح مختلف WINGS کے ترجمے میں آپ کو پنکھ لکھا نظر آئے گا جو کہ قطعی طور پر غلط ہے وزارت تعلیم میں SITUATION VACANT کا ترجمہ خالی صورتحال نظر آئے گا-

اردو زبان کے ساتھ یہ مذاق اردو سے محبت کرنے والوں کے لیۓ کافی تکلیف دہ ہے امید ہے کہ سرکار اس حوالے سے کچھ اقدامات کرے گی-

اپنا تبصرہ بھیجیں