این این ایس نیوز! غریب گھرانوں میں رہنے والی لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ بہت عام ہے۔ ان لڑکیوں کے والدین کے پاس شادی کرنے کے لیے رقم نہیں ہوتی جس سے لڑکی گھر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہونے لگتی ہے۔ لیکن وہیں خدا کے نیک بندے بھی ہیں

جو اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں بلکہ غریب علاقوں کی لڑکیوں کی شادی کی ذمہ داری بھی اپنے سر لی ہے۔ آج ہم جس وئلفئیر ٹرسٹ کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں وہ اس ادارے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف بیٹیوں کا نکاح اپنے پاس جمع کر لیتے ہیں اور پھر شادی اور جہیز کے تمام اخراجات خود اٹھاتے ہیں۔ مذکورہ ادارے کا نام خیر العمل ہے جو غریب افراد کی اجتماعی شادیاں کراتا ہے۔ اس حوالے سے ویلفئیر کے نمائندے جعفر بخاری اردو پوائنٹ کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنے علاووے کو جانتے ہیں۔ ہم درد دل رکھنے والے لوگ ہیں۔ جعفر بخاری نے بتایا کہ ہمارا ادارہ 15 سال سے پہلے شروع ہوا جبکہ شادی کرانے کا سلسلہ 3 سال قبل شروع کیا ہے۔ خیر العمل ویلفئیرکے نمائندے کا کہنا تھا کہ پہلے سال ہم نے 8 لڑکیوں کی شادی کرائی، دوسرے سال 15 اور رواں سال 90 لڑکیوں کی شادی کرائیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ نے ہمیں اس کام کی توفیق دی اور ماشاء اللہ سے کام بہت اچھا چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم لڑکیوں کی شادیاں کراتے ہیں اب تک ان 3 سالوں میں ایک بھی شکایت ہمیں موصول نہیں ہوئی۔ جعفر بخاری کا کہنا تھا کہ ہمارے ویلفئیر کی ڈیمانڈ یہ ہے کہ اور لڑکا اور لڑکی کے گھر والے وقت سے پہلے ہمارے پاس نکاح نامہ جمع کرائیں باقی سارا انتظام ہم خود کریں گے۔ جعفر بخاری نے بتایا کہ جہیز کا سارا سامان ہمارا ویلفئر ادارہ دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکا اور لڑکی کے گھر سے صرف 10 10 افراد یعنی کل 20 افراد لائے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں