شادی اور خرچہ آج کل کے دور میں ہم معنی لفظ ہوتے جا رہے ہیں ہمارے معاشرے میں نئی نسل کے کئی لوگوں کی ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے کم ترین خرچے میں اس شرعی فریضے کو انجام دیا ہے- تاہم معاشرے کی روایت میں جکڑے اور نمود نمائش کے شوقین کچھ ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے حد سے زيادہ خرچہ کر کے ایک بری مثال بھی قائم کی ہے-

شادی میں اعتدال سے خرچہ کرنے کے کچھ طریقے

اعتدال سے مراد کنجوسی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اسراف سے پرہیز کرتے ہوئے اس طرح سے شادی پر خرچ کرے کہ شادی کے بعد اس کو دوسروں کے قرض ادا کرنے کے تکلیف سے نہ گزرنا پڑے۔ ایسے ہی کچھ طریقے آج ہم آپ کو بتائيں گے

سستا برانڈڈ سوٹ خریدنے کا طریقہ

شادی کے کپڑوں کی خریداری آج کل کے دور میں ہر ایک مہنگے برانڈ سے کرنا چاہتا ہے جس پر ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہے- اس وجہ سے اگر آپ برانڈ کا سوٹ بھی پہننا چاہتی ہیں اور اس کو خریدنے کے لیے پیسے بھی کم خرچنے ہیں تو اس کے لیے ایک بہترین ترین طریقہ ہے کہ ہر برانڈ کے مالکان ہر سال اپنے سیمپل سستی قیمت میں فروخت کرتے ہیں- آپ ان سے وہ سوٹ مناسب قیمت پر خرید کر اپنے اس دن کو کم خرچ میں یادگار بنا سکتے ہیں-

دن کے وقت شادی کرنا ماضی کے لوگوں کی روایت تھی مگر حالیہ دور میں لوگوں نے شادی کے فنکشن کو رات کے وقت کر کے خود کو بہت سارے مسائل میں مبتلا کر دیا ہے- اس کے بجائے اگر دن کے وقت شادی کی جائے تو اس صورت میں ایک جانب تو ڈیکوریشن میں بجلی کا خرچ بجایا جا سکتا ہے اور دوسری طرف مہمان بھی دن کی شادی کی صورت میں رات تک اپنے گھروں کو روانہ ہو جائيں گے اس سے ایک بڑے خرچے سے بچا جا سکتا ہے-

شادی کارڈ ایک فیملی ایک کارڈ کے حساب سے چھپوائیں

شادی کارڈ کا خرچہ ایک ایسا خرچہ ہوتا ہےجو کہ آج کل کے دور میں کافی مہنگا ہو گیا ہے- اس سے بچنے کا سب سے بہترین ذریعہ تو یہ ہے کہ آپ واٹس ایپ کے ذریعے لوگوں کو کارڈ بھجوا سکتے ہیں جو کہ کم خرچ بالا نشین ثابت ہوتا ہے- جب کہ اس کا دوسرا حل یہ ہے کہ کارڈ کم چھپوائیں اور ہر گھر کے حساب سے صرف ایک کارڈ چھپوائيں تاکہ اس خرچے سے بچ سکیں-

شلیما کرنے کی حوصلہ افزائی کریں

آج کل کے دور میں شلیما کی ٹرم کافی استعمال ہو رہی ہے اس میں بارات اور ولیمہ ایک ہی دن کر لیا جاتا ہے اور اخراجات لڑکی والے اور لڑکے والے آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ عام طور پر ایک جانب تو دو دن تک ایک جیسے مہمانوں کو بلا کر کھانا کھلانے کے بجائے ایک ہی دن ان کو بلا کر جب کھانا کھلا دیا جائے تو اس سے فرض بھی پورا ہو سکتا ہے اور اخراجات میں بھی واضح کمی ہو سکتی ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں