ڈیلی ٹائمز! ماہرین نے کہاہے کہ رات کے اوقات میں کام کرنے والوں میں دل کی دھڑکن کی رفتار غیرمعمولی حد تک بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔طبی جریدے یورپین ہارٹ جرنل کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق جو لوگ رات کے اوقات میں کام کرتے ہیں

ان میں دل کی دھڑکن کی رفتار غیرمعمولی حد تک بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق جو لوگ اپنی زندگی کا زیادہ وقت نائٹ شفٹ میں کام کرتے ہوئے گزارتے ہیں ان میں دل کی دھڑکن کی اس خاص قسم کی بیماری “ایٹریل فبریلیشن” کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے لیے دن اور رات کی شفٹوں میں کام کرنے والے صحت مند افراد کی جانچ کی گئی تھی۔ جس کے لیے 2 لاکھ 8 ہزارافراد کے ڈیٹا کو موازنہ کیا گیا۔جو لوگ مستقل بنیادوں پر رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں ان میں دن میں کام کرنے والوں کی نسبت دل کے امراض کا خطرہ 12 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ماہرین نے کہاکہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نائٹ شفٹ کا دورانیہ کم کرکے اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ٹیم کی ریسرچ میں بتایا گیا تھا کہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں کینسر کی مخصوص اقسام کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں