ڈیلی ٹائمز! یہ کہانی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ہیومن آف بمبئی میں شائع ہوئی ہے اس کہانی کو شئير کرنے والی لڑکی نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے تاہم اس نے اپنی تصویر ضرور شئير کی ہے-اس کہانی کے مطابق وہ ایک دو کمروں کے مکان میں اپنے ماں باپ اور تین دوسری بہنوں کے ساتھ رہتی تھیں وہ اپنے والدین کی سب سے بڑی بیٹی

ان کے والد کی حیثیت خاندان میں ایک باغی کی سی تھی جس نے اپنا گاؤں صرف خاندان والوں کے اس دباؤ کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا کہ وہ ان کو چار بیٹیوں کی پیدائش کے بعد دوسری شادی کا مشورہ دیتے تھے مگر انہوں نے ان کے اس مشورے کو قبول کرنے کے بجائے گاؤں کو چھوڑنا قبول کیا-جب اس لڑکی کی عمر 18 سال تھی اس دوران ان کے گھر میں دو نئے مہمان آئے۔ یہ دونوں آپس میں میاں بیوی تھے جن میں سے ایک اس کا کزن تھا جس نے خاندان والوں کی مرضی کے خلاف شادی کر کے گاؤں چھوڑ دیا تھا انہوں نے اس کے والد سے کچھ دن پناہ کی درخواست کی جس کو اس لڑکی کے والد نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قبول کر لیا تھا-ان لوگوں کا کہنا تھا کہ جیسے ہی وہ کسی نوکری اور رہائش کا بندوبست کر لیں گے تو اپنے گھر پر منتقل ہو جائيں گے مگر کچھ مہینوں تک انہوں نے نہ تو کسی نوکری کی تلاش کی کوشش کی اور نہ ہی اپنے والدین کے ساتھ صلح کی کوشش کی تاکہ واپس جا سکیں۔

جب بھی ان کو کہا جاتا کہ وہ لوگ اپنا ٹھکانہ ڈھونڈیں تو وہ منت سماجت کر کے کچھ اور دن کی مہلت مانگ لیتے-اس دوران گھر میں موجود واحد لیپ ٹاپ جو اس لڑکی کا تھا اس کو استعمال کرتے ہوئے مختلف جگہوں پر آن لائن جاب کی درخواستیں بھی بھیجتے رہے مگر ان کا نتیجہ بھی کوئی حوصلہ ا‌فزا نہیں نکل رہا تھا-ایک شام اس لڑکی کا کزن کہیں باہر سے آیا اور اس کے ہاتھ میں کچھ تصاویر تھیں جو اس نے اس لڑکی کے والدین کو دکھائيں اس لڑکی کی والد والدہ یہ تصاویر دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے- درحقیقت یہ تصاویر اس لڑکی کی تھیں جو مختلف لڑکوں کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض حالت میں تھیں۔ اس لڑکی کی والدہ نے اس لڑکی سے ان تصاویر میں موجود لڑکوں کے بارے میں دریافت کیا اور ساتھ ہی ڈانٹنا شروع کر دیا کہ کیا وہ اسکول اس کام کے لیے جاتی ہے-مگر وہ لڑکی تو ان لڑکوں کو جانتی تک نہ تھی

اس پل اس کو اندازہ ہوا کہ اس کے لیپ ٹاپ میں سے یہ تصاویر نکال کر اس خوبصورتی سے فوٹو شاپ کی گئی تھیں کہ پہلی نظر میں تو یہ لڑکی خود بھی دھوکہ کھا گئی-وہ کزن اور اس کی بیوی اس کے والدین کے سچے ہمدرد بنے انہیں بتاتے رہے کہ اگر اس لڑکی کی یہ تصاویر خاندان والوں تک یا محلے والوں تک پہنچیں تو عزت کا تو جنازہ ہی نکل جانا ہے۔ لڑکی کے رونے دھونے کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا اور گھر کے ہر فرد کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ لڑکی کا کردار ہی خراب ہے جس نے ان کی عزت کو تار تار کر دیا ہے-اس مشکل وقت میں اس لڑکی کے والد وہ واحد انسان تھے جنہوں نے ان تصاویر کو سچ ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میری بیٹی کیسی ہے اور وہ ایسا کوئی عمل کبھی بھی نہیں کر سکتی۔ اس لڑکی کے والد کا جواب سنتے ہی اس کے کزن سخت غضب ناک ہو گئے-

ان کا کہنا تھا کہ ان تصاویر کے بدلے ہمیں ایک بڑی رقم ادا کی جائے ورنہ ہم یہ تصاویر وائرل کر دیں گے اور انہوں نے اس حوالے سے بلیک میلنگ کرتے ہوئے گھر بھی چھوڑنے سے انکار کر دیا- مگر اس لڑکی کے والد نے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان کا سامان گھر سے باہر پھینک دیا اور ان سے کہا کہ وہ جو دل چاہے کر لیں وہ ان سے ڈرنے کے لیے تیار نہیں ہیں-اس واقعے نے اس لڑکی اور تمام گھر والوں کو سخت خوفزدہ کر دیا یہاں تک کہ ان کو کئی سالوں تک ہر وقت اس بات کا دھڑکا لگا رہتا تھا کہ اس کی تصاویر کسی بھی وقت وائرل ہو جائيں گی مگر اس دوران اس کے والد نے اس کے اس اعتماد کو بحال کرنے ممیں بہت اہم کردار ادا کیا-انہوں نے اس واقعے کے بعد کبھی اس لڑکی سے اس واقعے کا دوبارہ ذکر نہیں کیا اس کی جگہ پر انہوں نے اس سے اپنے تعلق کو بہت مضبوط کر لیا اور آہستہ آہستہ اس کو گاڑی چلانا سکھائی

کالج کی تعلیم کے لیے بھیجا اس کے ساتھ ساتھ اس کے اعتماد کو اپنی محبت اور توجہ سے دوبارہ قائم کیا-اس لڑکی کا کہنا تھا کہ اب اس واقعے کو تقریباً دس سال گزر چکے ہیں اپنے والد کی کوششوں سے وہ اس قابل ہو چکی ہیں کہ اپنی آپ بیتی نہ صرف دوسروں کو بتا سکتی ہیں بلکہ دوسری لڑکیوں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہیں- تاکہ آئندہ کوئی لڑکی اس قسم کی بلیک میلنگ کا شکار نہ ہو بلکہ اس کا مقابلہ بہادری سے کرے-اس کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں اس کے والد کا کردار بہت اہم ہے جنہوں نے اس پر اعتماد کر کے اس کے اعتماد کو بحال کیا-

اپنا تبصرہ بھیجیں